حسن اخلاق اور حسن کلام

تیار کردہ: شفیق الرحمن عبدالکریم سلفی (استاذ جامعۃ التوحید بھیونڈی)

پیش کردہ: عبدالمتین عبدالحمیدخان (متعلم جامعۃ التوحید، بھیونڈی)

(مذکورہ مضمون نے انجمن اسلام کریمی لائبریری کے تحریری آل انڈیا مقابلہ دینیات بروزجمعہ وسنیچر بتاریخ۱۴،۱۵ ؍دسمبر۲۰۱۸ کو پہلا انعام حاصل کیا)

  تمہید: حامدا ومصلیا أما بعد!             
اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور مخلوق کی ہر دلعزیزی حاصل کرنے کے لیے حسن اخلاق  اور حسن کلام سب سے بڑا، سب سے بہتر اور سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے۔انسان کی پہچان حسن لباس نہیں بلکہ حسن اخلاق اور حسن کلام ہے گویا یہ دونوں انسان کی بنیادی ضرورت ہیں۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حسن اخلاق معنیٰ ومفہوم، فوائد واہمیت:  عبداللہ بن مبارک ؒ فرماتے ہیں: ’’چہرے کی کشادگی، مسکراہٹ بکھیرنا، کسی انسان کو مل کر مسکرانا، خوشی کا اظہار کرنا اورمخلوق کے ساتھ نیکی اور اچھائی کرنا‘‘ حسن اخلاق کہلاتا ہے۔ آپ ﷺ سب سے پہلے حسن اخلاق کو اختیارکئے اوراس کے بلند مقام پر فائز تھے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ’’وانک لعلیٰ خلق عظیم‘‘ (سورہ قلم) اور آپ ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل بھی تھا،  نبی کریم ﷺ نے امت مسلمہ کو حسن اخلاق کی ترغیب دی اور اس سے  اتصاف کا حکم بھی دیا۔ کہیں پرآپ ﷺنے اخلاق حسنہ سے متصف اشخاص کو خیار مسلمین (بہترین مسلمان) کہا ہے ،توکہیں  اخلاق فاضلہ سے متصف اشخاص کو محبوب کہا، تو کہیں حسن اخلاق کو انسان کا عطا کردہ بہترین چیز کہا، تو کہیں نیکی کو حسن اخلاق کہا۔
ظالم سے لیا ظلم کا بدلہ نہ کسی وقت

 مارابھی تواخلاق کی تلوار سے مارا
حسن اخلاق سے متصف انسان تکلیف کو برداشت کرتا، بدلہ کو ترک کرتا، ظالم پر رحم کرتا، مظلوم کادفاع کرتا، ا س کے لئے مغفرت طلب گار، دنیوی امور سے غافل، آخرت کی جانب راغب ہوتاہے، یعنی یہ شخص نہایت نرم خو، سلامت روہوتا ہے، اس میں دھوکہ، مکاری وعیاری نہیں ہوتی، تو ایسے شخص کو نبی کریم ﷺ نے جنت کے اعلی درجات کا مستحق قرار دیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، فرماتے ہیں: ’’مسلمان اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے رات کے تہجد گذار اور دن کے روزہ دار کا رتبہ حاصل کرلیتا ہے‘‘ (ابو داود)
جس طرح نبی کریم ﷺ نے حسن اخلاق کو اختیار کرنے کی دعوت دی ہے، جس میں رفقاء  اور مخلوق کے ساتھ مدارات، نرمی، نرم خوئی، معاملات کو سہل اور آسان بنانا کر پیش کرنا وغیرہ امور شامل ہیں، اسی طرح مسلمان کو ہر قول وعمل میں فحش اور برائی کو ترک کرنے، بد اخلاقی، بد کلامی سے کنارہ کشی کرنے کا حکم دیا ہے، حارثہ بن وہب سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دھوکہ باز مکار اور درشت رو جنت میں داخل نہ ہوگا‘‘ (ابوداود)
حسن کلام حسن اخلاق کا شاہ کلید (Master Key): زبان اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اورحسن کلا م ایک فن ہے، اللہ جسے یہ فن عطا کردے تو گویااسے دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں حاصل ہوگئیں۔ حسن اخلاق میں حسن کلام Master Key  (ماسٹرکی) کی حیثیت رکھتاہے، جو ہرطرح کے سخت دل کے قفل کو کھول سکتاہے، جس طرح کمرے میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ سورج کے موجودگی کی گواہی دیتے ہیں اسی طرح انسان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کی تربیت اور اخلاق کی پتا دیتی ہیں۔
حسن کلام تکلم وتحریر میں فصاحت وبلاغت،لفظ کی نکھار، جملوں کی روانی، فقروں کی جزالت، معانی کی صحت اورتصنع وتکلف سے دوری کا نام ہے۔
حسن کلام کی تاثیر اور اسکی ضرورت:  محسن انسانیت حضرت محمدﷺ جب بھی کسی سے ہم کلام ہوتے تو آپ کا لب ولہجہ درمیانی نوعیت کا ہوتا تھا، گفتگو میں اعتدال، بیان انتہائی سادہ، عام فہم اوربالکل واضح ہوتا، کئی مرتبہ ایک بات کو تین تین مرتبہ دہرانا آپ کی سنت ہوا کرتی تھی۔ حسن کلام کی خوبی اور اس کی تاثیر کا اندازہ  اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اللہ اپنے نبی کو بڑے پیارے انداز میں مخاطب ہوکر فرماتا ہے کہ مشرکوں سے حسن کلام سے پیش آؤ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دشمن دوست ہوگئے اور اسلام میں داخل ہوگئے ۔حسن کلام کی تاثیر کے پیش نظر قرآن کریم نے کیسی جامع تہذیب سکھلائی ہے فرمایا ’’وقولوا للناس حسنا‘‘ (سورہ بقرہ) لوگوں سے خوبصورت بات کرو۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مرد ناداں پرکلام نرم ونازک بے أثر
کلام میں تاثیر اورحسن جمال کیسے پیداہو؟ اس کے لئے قرآن کریم نے مختلف مقامات پر قول کی نو صفات بیان فرمائی ہے:
۱) قول کریم – عزت کی بات – فرمایا: ’’وقل لھما قولا کریما‘‘ (بنی اسرائیل)

۲) قول سدید – درست بات- فرمایا: ’’قولواقولاسدیدا‘‘ (احزاب)

۳) قول معروف – بھلی بات – فرمایا: ’’وقولوا لھم قولا معروفا‘‘(نساء)

۴)قول طیب – پاک اور عمدہ بات – فرمایا:’’ومثل کلمۃ طیبۃ‘‘(ابراہیم)

۵)قول بلیغ – بامقصد اورموثربات – فرمایا: ’’وقل لھم فی أنفسھم قولابلیغا‘‘(نساء)

۶)قول میسور– آسانی اوررافت کی بات- فرمایا : ’’وقل لھم قولا میسورا‘‘ (بنی

اسرائیل)

۷)قول لین – نرم بات – فرمایا: ’’وقولا لہ قولا لینا‘‘ (طٰہ)

۸)قول سلام – رفع شر اورعافیت کی بات – فرمایا: ’’واذا خاطبھم الجاھلون قالواسلاما‘‘ (فرقان)

۹)قول صدق– سچی بات – فرمایا: ’’کونوامع الصادقین‘‘(توبہ)

اللہ کااحسان عظیم ہے کہ اس نے اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں حسن کلام کی مکمل رہنمائی کی مگر ہم اس کو بھلا کر تحت الثریٰ پہونچ گئے اور اپنا شمار تنزل اور پست قوموں میں کرلئے۔

خاتمہ:   حسن اخلاق اور حسن کلام اسلام کے دوایسے زریں اصول ہیں،جن سے مسلمانوں کا قومی تشخص اجاگر ہو تا ہے،اگر تاریخ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو چیزیں اسلام کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتی ہیں،وہ یہی حسن اخلاق  اورحسن کلام ہے، یہی وہ خوبیاں ہیں،جس نے دوسری قوموں کے افراد کو اسلام کا گرویدہ بنایا اور ان کو اسلام قبول کرنے کی طرف رغبت دلائی۔ عظیم قومیں حسن اخلاق اورحسن کلام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں،مسلمان چونکہ ایک عظیم قوم ہیں اس لئے ان پر لازم ہے،کہ وہ ہر لمحہ اور ہر موقع پر ان  کی عادت ڈالیں،اب خواہ وہ کاروبار تجارت ہو یا باہمی لین دین،معاشرتی زندگی ہویا قومی، سماجی معاملات ہو یا عائلی، سیاست ہو یا معیشت۔الغرض  ہر موقع پر مسلمانوں کے ملی تشخص کو جو چیز برقرار رکھتی ہے،وہ یہی حسن اخلاق  اورحسن کلام ہے،جو قوم ان کو اپنا شعار نہیں بناتی،وہ قوم اخلاقی تنزل اور تمدنی گراوٹ سے دو چار ہو جاتی ہے اور جس قوم میں ثقافتی تنزل اور اخلاقی پستی آجائے تو وہ قوم دنیا میں ترقی کے مدارج طے نہیں کر سکتی۔
تقریرسے ممکن ہے نہ تحریرسے ممکن

وہ کا م کہ جوانسان کاکردارکرے ہے